
تجزیہ
صفر-چار سے فائنل تک: حیدرآباد کنگزمن کا ڈیبیو سیزن کیسے ایک کہانی بنا
حیدرآباد کنگزمن نے اپنا پہلا پی ایس ایل میچ لاہور قلندرز کے خلاف قذافی اسٹیڈیم میں 41 رنز سے ہارا۔ دوسرا میچ ملتان سلطانز سے، تیسرا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے، اور چوتھا راولپنڈز سے ہار گئے۔ چار میچ، چار ہار، اور ہر ایک بڑے فرق سے۔
اگر آپ مارچ 2026 کے تیسرے ہفتے میں پاکستانی کرکٹ پریس پڑھیں تو رائے واضح تھی: یہ ایک ڈیبیو ٹیم تھی جس نے مارنس لباشاگنے کے بڑے نام کو خریدا، جیسن گلیسپی جیسے قابل احترام کوچ کو لیا، اور اور کچھ نہیں تھا۔ سکواڈ کمزور لگتا تھا۔ کپتان T20 کپتانی میں نیا تھا۔
چھ ہفتے بعد، حیدرآباد کنگزمن پی ایس ایل کے فائنل میں تھے۔
موڑ کیسے آیا
پہلی جیت کراچی کنگز کے خلاف نیاز اسٹیڈیم میں آئی۔ صائم ایوب نے 41 گیندوں پر 78 رنز بنائے، شرجیل خان نے ناٹ آؤٹ 30 رنز سے میچ ختم کیا، اور رائلی میرڈتھ نے 22 رنز دے کر 3 وکٹیں لیں۔ نتیجے سے زیادہ اہم یہ تھا کہ کیسے جیتا گیا۔ کنگزمن نے چار میچوں میں ہر شعبے میں جیتنے کی کوشش کی تھی — اب انہوں نے سادہ کرکٹ کھیلی۔
اس کے بعد کنگزمن نے اگلے سات گروپ میچوں میں سے چھ جیتے۔ صائم ایوب پی ایس ایل میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ رائلی میرڈتھ دوسرے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے۔ لباشاگنے نے تقریباً ہر میچ میں نمبر 3 پر بیٹنگ کی اور 134 کے سٹرائیک ریٹ سے 360 رنز بنائے۔
لیگ سٹیج میں چوتھی پوزیشن۔ 10 پوائنٹس۔ پلے آف میں سب سے کم سیڈ کے طور پر داخلہ۔
پلے آف
ایلیمینیٹر 1 ملتان سلطانز کے خلاف۔ کنگزمن نے 8 وکٹوں سے جیت لیا۔ شرجیل خان نے تعاقب میں 38 گیندوں پر 64 رنز بنائے۔
ایلیمینیٹر 2 اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف، جو لیگ سٹیج کی سب سے بڑی ٹیم تھی۔ یونائیٹڈ نے 174 رنز بنائے۔ کنگزمن کو 20ویں اوور میں 11 رنز چاہیئے تھے اور دو وکٹیں باقی تھیں۔ اکیف جاوید نے تیسری گیند پر چھکا مارا اور چوتھی گیند پر دو رنز۔ آخری بال پر طیب عارف نے گیند کو واپس باؤلر کی طرف مارا اور دوڑ پڑے۔ تھرو نے سٹمپس کو نہیں مارا۔ کنگزمن 2 رنز سے جیت گئے۔
پاکستانی کرکٹ میڈیا نے اس جیت کو “نیاز معجزہ” کا نام دیا، حالانکہ میچ نیاز میں نہیں کھیلا گیا تھا۔
فائنل
پشاور زلمی کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں 3 مئی 2026 کو۔ پشاور لیگ کی فارم میں تھی۔ کنگزمن صرف ایک کہانی تھی۔
کنگزمن نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 162 رنز بنائے۔ صائم ایوب صفر پر آؤٹ ہو گئے۔ لباشاگنے نے 38 رنز بنائے۔ شرجیل خان نے ڈیتھ اوورز میں 22 گیندوں پر 42 رنز بنائے۔
پشاور نے 5 وکٹیں باقی رہتے ہدف حاصل کیا۔ بابر اعظم نے ناٹ آؤٹ 67 رنز بنائے۔ کنگزمن اپنے ڈیبیو پی ایس ایل سیزن میں رنر اپ رہے۔
آگے کیا ہے
ڈیبیو ٹیم کے رنر اپ بننے کی کہانی اپنے آپ میں پی ایس ایل کی سب سے بڑی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ 0-4 سے شروع کر کے فائنل تک پہنچنے کی کہانی دنیا کی کسی بھی ڈومیسٹک T20 لیگ میں بے مثال ہے۔
2027 کے لیے اصل سوال سکواڈ کا ہے۔ لباشاگنے کا کنٹریکٹ ایک سال کے لیے ہے۔ میرڈتھ اور بارٹمن بھی مختصر مدت کے لیے ہیں۔ صائم ایوب کی قیمت بڑھ چکی ہے۔
کنگزمن نے اس سیزن میں ایک قدم رکھا۔ آیا وہ اسے قائم رکھ سکیں گے یا نہیں، یہ فروری تک کے فیصلوں پر منحصر ہے۔
ماخذ: حیدرآباد کنگزمن - ویکیپیڈیا
متعلقہ: مارنس لباشاگنے پروفائل · نیاز اسٹیڈیم گائیڈ